سینے میں اس چبھے ہوئے خنجر کا شکریہ

Kaifi Sanbhali

سینے میں اس چبھے ہوئے خنجر کا شکریہ

ہاں شکریہ عزیز برادر کا شکریہ

کشتی کو ڈوبنے کا سلیقہ سکھا دیا

طوفان کا بھنور کا سمندر کا شکریہ

قسمت میں تھے مری یہی تحفے لکھے ہوئے

پھولوں کا شکریہ ترے پتھر کا شکریہ

زد سے ہمارے عکس کی آزاد ہو گئے

آئینے اب ادا کریں پتھر کا شکریہ

کچھ تو ہماری پیاس کا تم نے رکھا بھرم

اس زہر سے بھرے ہوئے ساغر کا شکریہ

سب میرے دشمنوں کے مددگار ہو گئے

سارے ہی دوستوں کا برابر کا شکریہ