بجھی بجھی سی ہے آنکھوں کی روشنی میری
Jagjeewan Lal Asthana saharبجھی بجھی سی ہے آنکھوں کی روشنی میری
وہ کیا گئے کہ گئی ساتھ زندگی میری
تری خوشی سے تو بڑھ کر نہیں خوشی میری
تری خوشی ہی پہ صدقے ہے زندگی میری
بنا رہا تھا میں تصویر غم کے ماروں کی
یہ کیا ہوا کہ وہ تصویر بن گئی میری
زمانہ کتنا ہے مانوس میری حالت سے
بدل بدل کے کہانی لکھی گئی میری
وہ کیا نبھائیں گے اب خاک درد کا رشتہ
انہیں تو لگتی ہے صورت بھی اجنبی میری
سبھی تھے ڈوبے ہوئے اپنے جام و ساغر میں
کوئی تو دیکھتا آنکھوں کی تشنگی میری
خیال آپ کا آیا تو بھر گئیں آنکھیں
حیات کتنی ہے حساس آج بھی میری
ابھی سے آئنہ کیوں رکھ دیا مرے آگے
ابھی تو وقت نے دیکھی نہیں چھبی میری
میں دیکھتا رہا آنکھوں سے اپنی بربادی
کسی نے لوٹ لی دنیا سے ہر خوشی میری
چلو خیال تو آیا انہیں کبھی میرا
یہ اور بات کہ حسرت نکل گئی میری
میں اس فریب میں جیتا رہا سحرؔ اب تک
کہ ان کے واسطے سب کچھ ہے زندگی میری