جب تصور ترا نہیں ہوتا

Jagjeewan Lal Asthana sahar

جب تصور ترا نہیں ہوتا

زندگی میں مزہ نہیں ہوتا

درد دل کا چھپائے رکھنے کو

مسکرانا برا نہیں ہوتا

زندگی ہو کے رہ گئی بوجھل

اب کوئی حادثہ نہیں ہوتا

شعر لکھتا ہوں خون سے پھر بھی

درد کا حق ادا نہیں ہوتا

عمر گزری ہمیں سفر کرتے

فاصلہ کم ذرا نہیں ہوتا

یاد ماضی سے کیوں الجھتے ہو

اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا

زندگی بوجھ بن گئی جب سے

خوف غم کا ذرا نہیں ہوتا

اے سحرؔ آئی یہ سحر کیسی

کہ اجالا ذرا نہیں ہوتا