سنبھال قلب و جگر تیغ اٹھا نظر نہ بچا

Kaifi Sanbhali

سنبھال قلب و جگر تیغ اٹھا نظر نہ بچا

ترا گماں یہ غلط ہے کہ کوئی سر نہ بچا

کوئی دیا کوئی بادل کوئی شجر نہ بچا

ہوا چلی تو کوئی نقش معتبر نہ بچا

سند لئے ہوئے پرواز کی فضاؤں سے

میں یوں زمین پہ اترا کہ کوئی پر نہ بچا

بجز عمل کوئی نسبت نہ کام آئے گی

خدا کے قہر سے تو نوحؔ کا پسر نہ بچا

عجیب معرکہ یہ وہم و اعتبار میں تھا

اسی کی تیغ چلی اور اسی کا سر نہ بچا