کسی طرح بھی وہ تکمیل مدعا کرتے

Habeeb Jaunpuri

کسی طرح بھی وہ تکمیل مدعا کرتے

وفا کی خو جو نہیں تھی تو پھر جفا کرتے

ادائے حسن تو طالب ہے جاں سپاری کی

کلیم کیسے تجلی کا سامنا کرتے

تمام عمر خدا سے یہی دعا مانگی

وہ دن بھی آتا جو وہ مجھ سے التجا کرتے

ہمیں کسی کی طلب کا بھرم تو رکھنا تھا

جو ہم یہ جان نہ دیتے تو اور کیا کرتے

فقط تحفظ کشتی کا دھیان تھا ورنہ

ہم اور منت احسان ناخدا کرتے

ذرا بتائیں جو فرقت میں ہم پہ بیت گئی

یہ وقت آپ پہ پڑتا تو آپ کیا کرتے

میں ان کے لب کی دعا کا اٹھاؤں کیوں احسان

جو دیکھنے کو نہ آئے وہ کیا دعا کرتے

وفا ہے آج بھی ہل من مزید کی طالب

حبیبؔ مر گئے کتنے وفا وفا کرتے