خاک کے ذروں کو تنویر نظر دیتا ہے وہ
Habeeb Jaunpuriخاک کے ذروں کو تنویر نظر دیتا ہے وہ
پھول کی پتی کو لوہے کا جگر دیتا ہے وہ
جب اسے مہمیز کرتی ہے تخیل کی ادا
ظلمت شب کو تجلیٔ سحر دیتا ہے وہ
سازش بربادئ عالم جہاں جب بھی ہوئی
ساری دنیا جاگ جاتی ہے خبر دیتا ہے وہ
جب رگ جمہوریت کو کاٹنے بڑھتا ہے ظلم
بے گناہی صبر کرتی ہے اثر دیتا ہے وہ
اس قدر فطرت کے حسن دل ربا پر ہے فدا
طالب سر ہو اگر فطرت تو سر دیتا ہے وہ
خود تہی دامن سہی لیکن زر اخلاص سے
دامن تہذیب انسانی کو بھر دیتا ہے وہ
عظمت آدم سے کر کے منضبط اپنا سخن
غم زدوں کو جرأت ذوق سفر دیتا ہے وہ
موت کو تسخیر کر کے قوت ادراک سے
مردنی چہروں کو جینے کا ہنر دیتا ہے وہ
قلب شاعر کو ملی ہیں عشق کی سب برکتیں
عشق ہی سے قلب آہن موم کر دیتا ہے وہ