یاد ہے آغاز الفت کا زمانہ یاد ہے
Habeeb Jaunpuriیاد ہے آغاز الفت کا زمانہ یاد ہے
ڈال کر بانہوں میں بانہیں مسکرانا یاد ہے
خم بہ خم زلفوں کا وہ چہرے پہ میرے لوٹنا
بھینی بھینی نکہتوں میں ڈوب جانا یاد ہے
سرخیوں سے وہ جھلک اٹھنا رخ ضو ریز سے
لیتے لیتے نام میرا جھینپ جانا یاد ہے
آگے بڑھ بڑھ کر پلٹنا اور پھر رکنا مرا
اس طرح دل کا مچلنا تلملانا یاد ہے
وہ مری بیتابیٔ دل سے تری بے تابیاں
وہ مرے شکوؤں پہ تیرا سر جھکانا یاد ہے
وہ مری پژمردنی سے تیرا ہو جانا اداس
وہ مجھے بھولی اداؤں سے ہنسانا یاد ہے
گر کبھی خلوت میں چھیڑا قصۂ شام فراق
مسکرانا مسکرا کر ٹال جانا یاد ہے
بے جھجک ملتے تھے مجھ سے پاس آتے تھے مرے
وہ گھڑی وہ وقت وہ دل کش زمانہ یاد ہے
سوچ کر انجام الفت کچھ جھجکنا خود بخود
دم بہ دم گھبرا کے مجھ کو آزمانا یاد ہے
وہ مرا جذبات سے گھبرا کے تجھ سے روٹھنا
آب دیدہ ہو کے وہ تیرا منانا یاد ہے
یاد جس کی خون کے آنسو رلائے گی حبیبؔ
وہ حکایت یاد ہے اور وہ فسانہ یاد ہے