اب مرے پاس فقط ڈھال ہے تلوار نہیں
Kaifi Sanbhaliاب مرے پاس فقط ڈھال ہے تلوار نہیں
میں زمیں دار کا بیٹا ہوں زمیں دار نہیں
رینگتے سانپ نظر آتے ہیں ہر سو مجھ کو
کیسے کہہ دوں کہ یہ فرعون کا دربار نہیں
زندگی کیسے گزاریں گے نہ جانے اپنی
میرے بچوں میں ذرا بھی کوئی مکار نہیں
قصر شاہی کا سمجھ لینا نہ حصہ خود کو
تو کہ دیوار کا سایہ ہے تو دیوار نہیں
ایک مدت ہوئی انگاروں پہ سوتے سوتے
پھر بھی اس وقت تلک قوم یہ بیدار نہیں
ہے زمینوں کے خریدار تو لاکھوں کیفیؔ
آسمانوں کا مگر کوئی خریدار نہیں