شام وعدہ گاہ رونا گاہ ہنسنا دیکھتے

Habeeb Jaunpuri

شام وعدہ گاہ رونا گاہ ہنسنا دیکھتے

آپ تو آئے نہیں ورنہ تماشا دیکھتے

حوصلہ دل کا اٹھا کر تم یہ پردا دیکھتے

جذب کر لیتے تمہیں اپنے میں اتنا دیکھتے

اپنی صورت اپنا پرتو اپنا جلوہ دیکھتے

آپ دل کو توڑ دیتے تو تماشا دیکھتے

دید کی حسرت تھی موسیٰ ذوق نظارہ نہ تھا

ورنہ اپنے آئنے میں ان کا جلوہ دیکھتے

خود بڑھے تھے وہ ہماری سمت پیمانہ بکف

دیکھتے ان کا کرم یا روئے توبہ دیکھتے

چار دن میں اپنی صورت ہی نہ پہچانی گئی

ہم کہاں سے زندگی لاتے کہ دنیا دیکھتے

سر جھکا کر لے گیا گردن پہ خود خون وفا

کس طرح چہرے سے ان کے رنگ اڑتا دیکھتے

روک لی چلو میں توبہ توڑ کر بے اختیار

ہائے کن آنکھوں سے ہم ساغر چھلکتا دیکھتے

کاش جو انجام موسیٰ پر ہیں نازاں اے حبیبؔ

ایک دن میرا بھی وہ ذوق نظارہ دیکھتے