Poetry
Poet
Meter
- تمہارے من کے آنگن میںخزائیں آ بھی جائیں توUrooj Zehra Zaidi
- کتنی اچھی ہوتی ہیںاس سے ہونے والی کچھUrooj Zehra Zaidi
- سنوبیزار سا رہناUrooj Zehra Zaidi
- مجھے معلوم تھا تم رستہ بدلو گےتبھی آنکھوں میں خوابوں کو ذرا سی بھی جگہ نہ دیUrooj Zehra Zaidi
- میں اس کے نام کی مہندیسجا کر اپنے ہاتھوں پرUrooj Zehra Zaidi
- آہ و گریہ میں کہاں تاثیر ہےضبط میں ہی اشکوں کی توقیر ہےVibha Jain 'Khwaab'
- اب درد دل سے کہہ دو کہ چھپ کر وہیں رہےآنکھوں کے آنسوؤں سے مراسم نہیں رہےVibha Jain 'Khwaab'
- اسے ضرور کوئی کام آ گیا ہوگاوگرنہ کوئی کسی کو یوں بھولتا ہوگاVibha Jain 'Khwaab'
- بنا بولے ہی سب کچھ جان جائےوہ کاش آنکھوں کا دکھ پہچان جائےVibha Jain 'Khwaab'
- زرد چہرے پہ خوش لباس آنکھیںخوب ہنستی ہیں محو یاس آنکھیںVibha Jain 'Khwaab'
- زہر سے زہر کٹے کانٹے سے کرچی نکلےدے نیا درد کہ یہ ٹیس پرانی نکلےVibha Jain 'Khwaab'
- شاید تجھے سکون ملے دیکھ کر تو دیکھہم ختم ہو رہے ہیں ہمیں اک نظر تو دیکھVibha Jain 'Khwaab'
- فلک پر چاند جلتا ہے ہم اس کے ساتھ جلتے ہیںکسی کی یاد میں ہم دونوں ساری رات جلتے ہیںVibha Jain 'Khwaab'
- کبھی ہلکا کبھی گہرا ہماری آنکھ کا کاجلہمارے غم سے وابستہ ہماری آنکھ کا کاجلVibha Jain 'Khwaab'
- لیکن تجھ پر کھلتا کب ہےمیری چپ کا جو مطلب ہےVibha Jain 'Khwaab'
- مسافروں کی طرح رہ گزر میں رہتا ہےیہ راستہ بھی مسلسل سفر میں رہتا ہےVibha Jain 'Khwaab'
- ہر شے کی بس تب تک قیمت ہوتی ہےجب تک آپ کو اس کی ضرورت ہوتی ہےVibha Jain 'Khwaab'
- تجھے کیا خبر ہے او بے خبر مری جان تجھ پہ نثار ہےتری شوخ و شنگ اداؤں میں مری عاشقی کا خمار ہےZaheer Abbas Saer
- تھا فخر جس پہ مجھ کو مری ذات کی طرحبدلا ہے وہ بھی صورت حالات کی طرحZaheer Abbas Saer
- جو گزرے جان سے تو پایۂ تکمیل تک پہنچےنہیں ممکن کہ کوئی زیست کی تفصیل تک پہنچےZaheer Abbas Saer
- دل کی دنیا میں تری یاد کے منظر جاگےآنکھ سے اشک گرے غم کے سمندر جاگےZaheer Abbas Saer
- دل محو انتظار کبھی ہے کبھی نہیںسوچوں کا اک حصار کبھی ہے کبھی نہیںZaheer Abbas Saer
- ضبط کا حوصلہ باقی نہ شکیبائی ہےتری چاہت مجھے کس موڑ پہ لے آئی ہےZaheer Abbas Saer
- کوئی بھی دل میں نہیں اب آرزوہے خیال یار میرے روبروZaheer Abbas Saer
- مجھ پہ تہمت لگا رہے ہیں لوگجانے کیوں دل دکھا رہے ہیں لوگZaheer Abbas Saer
- وہ عشق کی مخصوص ادا کو نہیں سمجھانادان ابھی خوئے وفا کو نہیں سمجھاZaheer Abbas Saer
- ہے اس کا حق یہ ہو پر ماتما سے جس کی لاگکسی بھی شخص کی میراث تو نہیں بیراگZaheer Abbas Saer
- یادوں کے گل دل کے تو گلدان میں رکھآج بھی ان کی صورت اپنے دھیان میں رکھZaheer Abbas Saer
- یوں نفرتوں میں محبت کے سلسلے دیکھےجو توڑنے پہ نہ ٹوٹے وہ آئنے دیکھےZaheer Abbas Saer
- آنکھیں دکھائیں غیر کو میری خطا کے ساتھمطلب ادا وہ کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھانور دہلوی
- اشک بیتاب و نگہ بے باک و چشم تر خرابچشم بینا سے اگر دیکھو تو گھر کا گھر خرابانور دہلوی
- ان سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیںآگ دل میں دبائے بیٹھے ہیںانور دہلوی
- نظر آئے کیا مجھ سے فانی کی صورتکہ پنہاں ہوں درد نہانی کی صورتانور دہلوی
- نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سےپسینہ پوچھیے اپنی جبیں سےانور دہلوی
- ہو رہا ہے ٹکڑے ٹکڑے دل میرے غم خوار کاہے مرے زخم جگر میں کاٹ تیغ یار کاانور دہلوی
- ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتیدھیان میں وہ کمر نہیں آتیانور دہلوی
- یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہاپہلے بازار ازل مصر کا بازار رہاانور دہلوی
- اب اپنا حال ہم انہیں تحریر کر چکےخامہ سپرد کاتب تقدیر کر چکےانور دہلوی
- دیکھا جو مرگ تو مرنا زیاں نہ تھافانی کے بدلے ملک بقا کچھ گراں نہ تھاانور دہلوی
- محبت ہو تو برق جسم و جاں ہووہ آتش کیا کہ سینے میں نہاں ہوانور دہلوی
- اس ٹوٹے ہوئے دل کا سہارا ہے ترا غمہمدرد حقیقت میں ہمارا ہے ترا غمGhamgeen Qureshi
- تو جو مل جائے تو ٹھکرا دوں یہ دنیا کیا ہےماسوا تیرے مرے دل کی تمنا کیا ہےGhamgeen Qureshi
- تیرے غم کے شکار ہیں ہم لوگپھر بھی تجھ پر نثار ہیں ہم لوگGhamgeen Qureshi
- جب کسی سے وفا کرے کوئیدیکھ کر کیوں جلا کرے کوئیGhamgeen Qureshi
- حسرتیں بیتاب دل ناشاد ہےہر تمنا مائل فریاد ہےGhamgeen Qureshi
- خیال رکھنا مرا زخم بھر نہ جائے کہیںحوادثات کا دریا اتر نہ جائے کہیںGhamgeen Qureshi
- دنیا کی مسرت اپنا لے ضد چھوڑ دے محو خواب نہ ہومیں تیرے لئے بیتاب سہی تو میرے لئے بیتاب نہ ہوGhamgeen Qureshi
- ڈھل گئی رات دن نکل آیاغم نیا پیرہن بدل آیاGhamgeen Qureshi
- شب فراق سے مانوس غم کا مارا ہوںابھرتا چاند نہیں ڈوبتا ستارا ہوںGhamgeen Qureshi
- کیا پوچھ رہے ہو دل بیمار کی باتیںکمبخت سمجھتا ہی نہیں پیار کی باتیںGhamgeen Qureshi