گو آنکھوں سے محروم تھے میرے بابا

Kaifi Sanbhali

گو آنکھوں سے محروم تھے میرے بابا

مگر قلب روشن تو تھا پاس ان کے

نہ جانے میں کیوں

شرارت بھی کوئی کرتا نہ تھا

بہن بھائیوں کو ستاتا نہ تھا

چرا کر مٹھائی بھی کھاتا نہ تھا

میں اسکول سے جی چراتا نہ تھا

یہی خوف رہتا تھا ہر لمحہ مجھ کو

ابھی جیسے بابا مجھے دیکھ لیں گے

خفا ہوں گے ڈانٹیں گے چلائیں گے

غصہ کریں گے

گو آنکھوں سے محروم تھے میرے بابا