تقدیر بگڑتی جاتی ہے گو بات بنائے جاتے ہیں
Habeeb Jaunpuriتقدیر بگڑتی جاتی ہے گو بات بنائے جاتے ہیں
وہ اتنا ہی روٹھے جاتے ہیں ہم جتنا منائے جاتے ہیں
اب جا کے نہیں آنے والے کچھ طور پہ پائے جاتے ہیں
ہنستے ہیں تسلی دینے کو اور اشک بھی آئے جاتے ہیں
رہ رہ کے دھڑک اٹھتا ہے جگر اور سانس بھی اکھڑی جاتی ہے
اے موت ٹھہر تعجیل نہ کر دم بھر میں وہ آئے جاتے ہیں
باتوں میں مروت کے رشتے وہ توڑ رہے ہیں ہنس ہنس کر
آنکھوں سے محبت کے ساغر رہ رہ کے پلائے جاتے ہیں
ان کو ہے چمن سے کیا مطلب یا پھول کھلیں یا آگ لگے
جن تنکوں نے رشتہ جوڑا تھا چن چن کے جلائے جاتے ہیں
بتلائیں حبیبؔ اک راز تمہیں کیا شام فراق میں ہائے چراغ
کس طرح جلائے جاتے ہیں کس طرح بجھائے جاتے ہیں