اپنے سب زخموں پہ ہم سوئے تھے آنسو باندھ کر

Kaifi Sanbhali

اپنے سب زخموں پہ ہم سوئے تھے آنسو باندھ کر

آ گئیں پروائیاں پیروں میں گھنگرو باندھ کر

ایک اک کر کے تری یادوں کی ساری تتلیاں

ہو گئیں رخصت مری پلکوں میں جگنو باندھ کر

منزلت سے میری ناواقف نہ تھے مجبور تھے

رو پڑے دشمن مرے رسی میں بازو باندھ کر

خوش نسب لوگوں کے بیٹوں کو نہیں اس کی خبر

شیر مارے جائیں گے جنگل میں آہو باندھ کر

مال اور دولت کی اے کیفیؔ تمنا کس لئے

ساتھ لے جائے گا دنیا سے تو کیا کیا باندھ کر