زندگی میری کبھی غم سے جدا ہو نہ سکی
Jagjeewan Lal Asthana saharزندگی میری کبھی غم سے جدا ہو نہ سکی
درد بڑھتا ہی گیا اور دوا ہو نہ سکی
زندگی میں نے بہت ناز اٹھائے تیرے
یہ الگ بات کہ تجھ سے ہی وفا ہو نہ سکی
جانے کس دور میں کیا جرم کیا تھا ہم نے
زندگی بیت گئی ختم سزا نہ ہو سکی
پھول ہی پھول ہیں ہر شاخ گلستاں پہ مگر
میری تقدیر ہی افسوس رسا ہو نہ سکی
ساتھ سب چھوڑ گئے ہجر میں میرا لیکن
کیوں تری یاد مرے دل سے جدا ہو نہ سکی
آدمی ٹوٹ گیا جستجو کرتے کرتے
زندگی دام مصیبت سے رہا ہو نہ سکی
بچھ گئی دھوپ ہر اک سمت اجالوں کی مگر
دور دل سے مرے ظلمت کی گھٹا ہو نہ سکی
سوچتا رہتا ہوں اکثر شب تنہائی میں
زندگی کیوں مری مرہون دعا ہو نہ سکی
کیا عجب چیز ہے اظہار محبت بھی سحرؔ
بات لمحوں کی تھی صدیوں میں ادا ہو نہ سکی