یہ شان وفا غم کی حکایت سے ملی ہے

Habeeb Jaunpuri

یہ شان وفا غم کی حکایت سے ملی ہے

دولت مجھے یہ درد محبت سے ملی ہے

عالم کو بہاراں ہے کئے اس کی تمنا

گلشن کو مہک پھول کی صحبت سے ملی ہے

اک حشر ہے اس کا کسی کوچے سے گزرنا

رفتار کی حد حد قیامت سے ملی ہے

ذرے سے جو سنتا ہوں میں سورج کی کہانی

یہ آگہی مدت کی ریاضت سے ملی ہے

مشکل کی ہر اک شکل پہ میرا ہے تصرف

مجھ کو یہ سند شاہ ولایت سے ملی ہے

اس قوم کے اب کوئی بھٹکنے کا نہیں ڈر

منزل جسے صدیوں کی مسافت سے ملی ہے

تم یاد نہ رکھو مجھے لیکن یہ رہے یاد

شہرت تمہیں میری ہی محبت سے ملی ہے