شعور و فکر کی گہرائیوں سے ہار گیا
Kaifi Sanbhaliشعور و فکر کی گہرائیوں سے ہار گیا
میں وہ بدن ہوں جو پرچھائیوں سے ہار گیا
جسے تمام زمانہ نہ کر سکا قائل
وہ خود ضمیر کی سچائیوں سے ہار گیا
مری جڑوں کو چلا ہے وہ کھوکھلا کرنے
زمانہ جب مری اونچائیوں سے ہار گیا
میں دشمنوں سے بھی نظریں ملا نہیں سکتا
مرا خلوص مرے بھائیوں سے ہار گیا
میں تیری میز پہ رکھا ہوا اک آئینہ
ہزار طرح کی بینائیوں سے ہار گیا
نصیب تب کہیں تنہائیاں ہوئیں کیفیؔ
یہ دل جب انجمن آرائیوں سے ہار گیا