ان کو احساس غم نہیں ہوتا

Jagjeewan Lal Asthana sahar

ان کو احساس غم نہیں ہوتا

کیوں یہ احساس کم نہیں ہوتا

وقت لکھتا ہے سب کی تقدیریں

ہاتھ میں گو قلم نہیں ہوتا

میں ہوں عنوان اس فسانے کا

جو کہ صرف قلم نہیں ہوتا

فائدہ کیا ہے ایسے رونے سے

ان کا دامن جو نم نہیں ہوتا

تم مرے ساتھ ساتھ چلتے ہو

کیوں یہ احساس کم نہیں ہوتا

سب پہ رحمت تری برستی ہے

ایک ہم پر کرم نہیں ہوتا

مسکرانا بھی فن ہے دنیا میں

کس کی دنیا میں غم نہیں ہوتا

سر جھکاتے نہیں ہیں ہم جس جا

تیرا نقش قدم نہیں ہوتا

ایک وہ دل کہ ٹوٹ جاتے ہیں

ایک یہ سر کہ خم نہیں ہوتا

ان کے غم سے جو دوستی ہے سحرؔ

اب کسی غم کا غم نہیں ہوتا