نگاہ و دل کو جلانے کا حوصلہ تو کرو

Jagjeewan Lal Asthana sahar

نگاہ و دل کو جلانے کا حوصلہ تو کرو

اٹھا کے پردے حقیقت کا سامنا تو کرو

بساط رقص پہ نغموں سے کھیلنے والو

کسی غریب کی فریاد بھی سنا تو کرو

کسی کے عیب تمہیں پھر نظر نہ آئیں گے

خود اپنے آپ کو تفصیل سے پڑھا تو کرو

وہ زندگی کے لئے ہو کہ ہو اجل کے لئے

ہمارے حق میں کبھی تم کوئی دعا تو کرو

دکھائی دیں گے ہمیں ہم تمہارے چہرے میں

نظر کے سامنے اک بار آئنہ تو کرو

مجاز خود ہی حقیقت کا روپ ڈھالے گا

یہ شرط ہے کہ حق بندگی ادا تو کرو

ہماری آنکھ میں سورج کو ڈھونڈنے والو

تم اپنے دل کو اجالوں سے آشنا تو کرو

میں کائنات کی ہر شے کو چھوڑ سکتا ہوں

تم اپنے درد محبت سے آشنا تو کرو

بہت طویل سہی شب تمہاری زلفوں کی

سحرؔ کو ان کے اجالوں سے آشنا تو کرو