Poetry
Poet
Meter
- ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووےدنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووےاشرف علی فغاں
- عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتاکوئی کسی بندہ کا خریدار نہ ہوتااشرف علی فغاں
- عبث عبث تجھے مجھ سے حجاب آتا ہےترے لیے کوئی خانہ خراب آتا ہےاشرف علی فغاں
- عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہےایک میں آپ ہوں یا گوشۂ تنہائی ہےاشرف علی فغاں
- ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کاوہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کااشرف علی فغاں
- اے بلبل دل دوڑ کے جاناں کوں پہنچ توںویرانۂ تن چھوڑ گلستاں کوں پہنچ توںObaidullah Khan Mubtala
- اے جواناں نو بہاراں میں قدح نوشی کروگل بدن ساقی سیتی ہر شب ہم آغوشی کروObaidullah Khan Mubtala
- تجھ بت کا ہوں میں برہمن کرتار کی سوگند ہےجپتا ہوں مالا یار کی زنار کی سوگند ہےObaidullah Khan Mubtala
- تجھ چہرۂ گل رنگ نیں خوباں کو گلگونی دیاتیرے لب یاقوت نے مجھ دل کوں پر خونی دیاObaidullah Khan Mubtala
- ترا بلبل ہوں تجھ گل کی قسم ہےبرہ سوں مست ہوں مل کی قسم ہےObaidullah Khan Mubtala
- حسن کے ڈنکے کی دھوم جگ میں پڑی جا بہ جاکیوں نہ بجے دل منے عشق کی نوبت سداObaidullah Khan Mubtala
- خوب ہے عاشق سوں مل رہنا سجنلاڈ اوس کا ہر گھڑی سہنا سجنObaidullah Khan Mubtala
- دلبر بے باک سوں خوب نہیں بولناشوخ ستم ناک سوں خوب نہیں بولناObaidullah Khan Mubtala
- صد حیف کہ کمزور ہے چشمان بڑھاپاسستی ستی جنبش میں ہے دندان بڑھاپاObaidullah Khan Mubtala
- فریاد کہ وہ شوخ ستم گار نہ آیامجھ قتل کوں لے ہاتھ میں تلوار نہ آیاObaidullah Khan Mubtala
- ماہ رو نکلے ہے نت اجلی طرحاس سبب روشن ہے دل پتلی طرحObaidullah Khan Mubtala
- مرا پیارا ہے نا فرماں ہمیشہ اور پیاروں میںنہیں دیکھا کسو نے لالہ رو ایسا ہزاروں میںObaidullah Khan Mubtala
- منہ کتابی تیرا بیاضی نئیںوو جوابی ہے اعتراضی نئیںObaidullah Khan Mubtala
- نظر مت بوالہوس پر کر ارے چنچل سنبھال انکھیاںکہ اس بد فعل سوں کھنچیں گی آخر انفعال انکھیاںObaidullah Khan Mubtala
- صحبت نہ رکھ اغیار سوں بیزار مت کر یار کوںجاتا رہے گا ہاتھ سوں اوس کی نگہبانی کروObaidullah Khan Mubtala
- امنگوں میں وہی جوش تمنا زاد باقی ہےابھی دل میں خدا رکھے کسی کی یاد باقی ہےYaqoob Usmani
- تضاد اچھا نہیں طرز بیاں کا ہم زبانوں میںحقیقت کو چھپاتا جا رہا ہوں داستانوں میںYaqoob Usmani
- چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلومکتنے رنگ بدلے گی زندگی خدا معلومYaqoob Usmani
- حل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہےمکتوب ازل حرف تمنا تو نہیں ہےYaqoob Usmani
- خوش فہمیوں کو غور کا یارا نہیں رہاطوفاں کی زد سے دور کنارا نہیں رہاYaqoob Usmani
- زباں کچھ اور کہتی ہے نظر کچھ اور کہتی ہےبظاہر یہ توجہ چارہ گر کچھ اور کہتی ہےYaqoob Usmani
- شوق کی کم نگہی بھی ہے گوارا مجھ کوغم تو غم آج خوشی بھی ہے گوارا مجھ کوYaqoob Usmani
- صبر خود اکتا گیا اچھا ہواکچھ تو بوجھ احساس کا ہلکا ہواYaqoob Usmani
- طوفاں کی زد پہ اپنا سفینہ جب آ گیاساحل کو موج موج کو ساحل بنا گیاYaqoob Usmani
- کرم کے اس دور امتحاں سے وہ دور مشق ستم ہی اچھانہ زندگی کی خوشی ہی اچھی نہ بے ثباتی کا غم ہی اچھاYaqoob Usmani
- مذاق کاوش پنہاں اب اتنا عام کیا ہوگازباں پر ہم صفیروں کی مرا پیغام کیا ہوگاYaqoob Usmani
- میں چاہوں بھی تو ضبط گفتگو میں لا نہیں سکتاسمجھنے پر بھی دل کا مدعا سمجھا نہیں سکتاYaqoob Usmani
- نگاہ بد گماں ہے اور میں ہوںفریب آشیاں ہے اور میں ہوںYaqoob Usmani
- وہ کون سے خطرے ہیں جو گلشن میں نہیں ہیںہم موت کے منہ میں ہیں نشیمن میں نہیں ہیںYaqoob Usmani
- قدم قدم پہ حوادث نے رہنمائی کیرواں ہے جادۂ منزل پہ کاروان خیالYaqoob Usmani
- آندھی ہے تیز دھول سے گھر اور اٹ نہ جائےٹوٹے کواڑ بند کرو دم الٹ نہ جائےZafar Ghauri
- ابھرتے ڈوبتے تاروں کے بھید کھولے گافصیل شب سے اتر کر کوئی تو بولے گاZafar Ghauri
- ترا یقین ہوں میں کب سے اس گمان میں تھامیں زندگی کے بڑے سخت امتحان میں تھاZafar Ghauri
- ٹوٹے تختے پر سمندر پار کرنے آئے تھےہم سفر طوفان غم سے پیار کرنے آئے تھےZafar Ghauri
- جاری ہے کب سے معرکہ یہ جسم و جاں میں سرد ساچھپ چھپ کے کوئی مجھ میں ہے مجھ سے ہی ہم نبرد ساZafar Ghauri
- چل پڑے ہم دشت بے سایہ بھی جنگل ہو گیاہم سفر جب مل گئے جنگل میں منگل ہو گیاZafar Ghauri
- خواب رنگوں سے بنی ہے یاد تازہدھوپ لکھ لائی مبارک یاد تازہZafar Ghauri
- دل میں رکھ زخم نوا راہ میں کام آئے گادشت بے سمت میں اک ہو کا مقام آئے گاZafar Ghauri
- سات رنگوں سے بنی ہے یاد تازہدھوپ لکھ لائی مبارک باد تازہZafar Ghauri
- سزا ملی ہے بکھرنے کی اور سمٹنے کیخطا ہوئی تھی ہواؤں سے کل لپٹنے کیZafar Ghauri
- شب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوںٹوٹا تارہ ہوں خلاؤں سے اتر آیا ہوںZafar Ghauri
- شعلے سے چٹکتے ہیں ہر سانس میں خوشبو کےآئی ہے صبا شاید وہ پھول سا تن چھو کےZafar Ghauri
- فصل گل کو ضد ہے زخم دل کا ہرا کیسے ہوچاندنی بھی ڈس رہی ہے غم کی دوا کیسے ہوZafar Ghauri
- وقت کا سانس بھی طوفان کا ٹھہراؤ لگےاس کڑی رت میں کہاں ٹوٹی ہوئی ناؤ لگےZafar Ghauri
- ہمکتی کونپلوں کو خشک گھاس کر دے گیہوا درختوں کو پھر بے لباس کر دے گیZafar Ghauri