Poetry

Poet
Meter
  1. ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووےدنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووےاشرف علی فغاں
  2. عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتاکوئی کسی بندہ کا خریدار نہ ہوتااشرف علی فغاں
  3. عبث عبث تجھے مجھ سے حجاب آتا ہےترے لیے کوئی خانہ خراب آتا ہےاشرف علی فغاں
  4. عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہےایک میں آپ ہوں یا گوشۂ تنہائی ہےاشرف علی فغاں
  5. ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کاوہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کااشرف علی فغاں
  6. اے بلبل دل دوڑ کے جاناں کوں پہنچ توںویرانۂ تن چھوڑ گلستاں کوں پہنچ توںObaidullah Khan Mubtala
  7. اے جواناں نو بہاراں میں قدح نوشی کروگل بدن ساقی سیتی ہر شب ہم آغوشی کروObaidullah Khan Mubtala
  8. تجھ بت کا ہوں میں برہمن کرتار کی سوگند ہےجپتا ہوں مالا یار کی زنار کی سوگند ہےObaidullah Khan Mubtala
  9. تجھ چہرۂ گل رنگ نیں خوباں کو گلگونی دیاتیرے لب یاقوت نے مجھ دل کوں پر خونی دیاObaidullah Khan Mubtala
  10. ترا بلبل ہوں تجھ گل کی قسم ہےبرہ سوں مست ہوں مل کی قسم ہےObaidullah Khan Mubtala
  11. حسن کے ڈنکے کی دھوم جگ میں پڑی جا بہ جاکیوں نہ بجے دل منے عشق کی نوبت سداObaidullah Khan Mubtala
  12. خوب ہے عاشق سوں مل رہنا سجنلاڈ اوس کا ہر گھڑی سہنا سجنObaidullah Khan Mubtala
  13. دلبر بے‌ باک سوں خوب نہیں بولناشوخ ستم ناک سوں خوب نہیں بولناObaidullah Khan Mubtala
  14. صد حیف کہ کمزور ہے چشمان بڑھاپاسستی ستی جنبش میں ہے دندان بڑھاپاObaidullah Khan Mubtala
  15. فریاد کہ وہ شوخ ستم گار نہ آیامجھ قتل کوں لے ہاتھ میں تلوار نہ آیاObaidullah Khan Mubtala
  16. ماہ رو نکلے ہے نت اجلی طرحاس سبب روشن ہے دل پتلی طرحObaidullah Khan Mubtala
  17. مرا پیارا ہے نا فرماں ہمیشہ اور پیاروں میںنہیں دیکھا کسو نے لالہ رو ایسا ہزاروں میںObaidullah Khan Mubtala
  18. منہ کتابی تیرا بیاضی نئیںوو جوابی ہے اعتراضی نئیںObaidullah Khan Mubtala
  19. نظر مت بوالہوس پر کر ارے چنچل سنبھال انکھیاںکہ اس بد فعل سوں کھنچیں گی آخر انفعال انکھیاںObaidullah Khan Mubtala
  20. صحبت نہ رکھ اغیار سوں بیزار مت کر یار کوںجاتا رہے گا ہاتھ سوں اوس کی نگہبانی کروObaidullah Khan Mubtala
  21. امنگوں میں وہی جوش تمنا زاد باقی ہےابھی دل میں خدا رکھے کسی کی یاد باقی ہےYaqoob Usmani
  22. تضاد اچھا نہیں طرز بیاں کا ہم زبانوں میںحقیقت کو چھپاتا جا رہا ہوں داستانوں میںYaqoob Usmani
  23. چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلومکتنے رنگ بدلے گی زندگی خدا معلومYaqoob Usmani
  24. حل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہےمکتوب ازل حرف تمنا تو نہیں ہےYaqoob Usmani
  25. خوش فہمیوں کو غور کا یارا نہیں رہاطوفاں کی زد سے دور کنارا نہیں رہاYaqoob Usmani
  26. زباں کچھ اور کہتی ہے نظر کچھ اور کہتی ہےبظاہر یہ توجہ چارہ گر کچھ اور کہتی ہےYaqoob Usmani
  27. شوق کی کم نگہی بھی ہے گوارا مجھ کوغم تو غم آج خوشی بھی ہے گوارا مجھ کوYaqoob Usmani
  28. صبر خود اکتا گیا اچھا ہواکچھ تو بوجھ احساس کا ہلکا ہواYaqoob Usmani
  29. طوفاں کی زد پہ اپنا سفینہ جب آ گیاساحل کو موج موج کو ساحل بنا گیاYaqoob Usmani
  30. کرم کے اس دور امتحاں سے وہ دور مشق ستم ہی اچھانہ زندگی کی خوشی ہی اچھی نہ بے ثباتی کا غم ہی اچھاYaqoob Usmani
  31. مذاق کاوش پنہاں اب اتنا عام کیا ہوگازباں پر ہم صفیروں کی مرا پیغام کیا ہوگاYaqoob Usmani
  32. میں چاہوں بھی تو ضبط گفتگو میں لا نہیں سکتاسمجھنے پر بھی دل کا مدعا سمجھا نہیں سکتاYaqoob Usmani
  33. نگاہ بد گماں ہے اور میں ہوںفریب آشیاں ہے اور میں ہوںYaqoob Usmani
  34. وہ کون سے خطرے ہیں جو گلشن میں نہیں ہیںہم موت کے منہ میں ہیں نشیمن میں نہیں ہیںYaqoob Usmani
  35. قدم قدم پہ حوادث نے رہنمائی کیرواں ہے جادۂ منزل پہ کاروان خیالYaqoob Usmani
  36. آندھی ہے تیز دھول سے گھر اور اٹ نہ جائےٹوٹے کواڑ بند کرو دم الٹ نہ جائےZafar Ghauri
  37. ابھرتے ڈوبتے تاروں کے بھید کھولے گافصیل شب سے اتر کر کوئی تو بولے گاZafar Ghauri
  38. ترا یقین ہوں میں کب سے اس گمان میں تھامیں زندگی کے بڑے سخت امتحان میں تھاZafar Ghauri
  39. ٹوٹے تختے پر سمندر پار کرنے آئے تھےہم سفر طوفان غم سے پیار کرنے آئے تھےZafar Ghauri
  40. جاری ہے کب سے معرکہ یہ جسم و جاں میں سرد ساچھپ چھپ کے کوئی مجھ میں ہے مجھ سے ہی ہم نبرد ساZafar Ghauri
  41. چل پڑے ہم دشت بے سایہ بھی جنگل ہو گیاہم سفر جب مل گئے جنگل میں منگل ہو گیاZafar Ghauri
  42. خواب رنگوں سے بنی ہے یاد تازہدھوپ لکھ لائی مبارک یاد تازہZafar Ghauri
  43. دل میں رکھ زخم نوا راہ میں کام آئے گادشت بے سمت میں اک ہو کا مقام آئے گاZafar Ghauri
  44. سات رنگوں سے بنی ہے یاد تازہدھوپ لکھ لائی مبارک باد تازہZafar Ghauri
  45. سزا ملی ہے بکھرنے کی اور سمٹنے کیخطا ہوئی تھی ہواؤں سے کل لپٹنے کیZafar Ghauri
  46. شب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوںٹوٹا تارہ ہوں خلاؤں سے اتر آیا ہوںZafar Ghauri
  47. شعلے سے چٹکتے ہیں ہر سانس میں خوشبو کےآئی ہے صبا شاید وہ پھول سا تن چھو کےZafar Ghauri
  48. فصل گل کو ضد ہے زخم دل کا ہرا کیسے ہوچاندنی بھی ڈس رہی ہے غم کی دوا کیسے ہوZafar Ghauri
  49. وقت کا سانس بھی طوفان کا ٹھہراؤ لگےاس کڑی رت میں کہاں ٹوٹی ہوئی ناؤ لگےZafar Ghauri
  50. ہمکتی کونپلوں کو خشک گھاس کر دے گیہوا درختوں کو پھر بے لباس کر دے گیZafar Ghauri