خوش فہمیوں کو غور کا یارا نہیں رہا
Yaqoob Usmaniخوش فہمیوں کو غور کا یارا نہیں رہا
طوفاں کی زد سے دور کنارا نہیں رہا
بڑھ بڑھ کے ڈھونڈھتے ہیں پناہیں نئی نئی
فتنوں کو تیرگی کا سہارا نہیں رہا
بیتا بیاں بہائے تمنا بڑھا گئیں
نقد سکوں گنوا کے خسارا نہیں رہا
باقی تھا جس کے دم سے بھرم احتیاج کا
ہمت کو وہ کرم بھی گوارا نہیں رہا
نازاں ہے اپنی فتح پہ اس طرح موت آج
جیسے کوئی حیات کا مارا نہیں رہا
خورشید انقلاب کا آئینہ ہو تو ہو
مژگاں سے گر کے اشک ستارا نہیں رہا
یعقوبؔ لمحے لمحے سے ظاہر ہے بے رخی
ساحل نواز وقت کا دھارا نہیں رہا