ابھرتے ڈوبتے تاروں کے بھید کھولے گا
Zafar Ghauriابھرتے ڈوبتے تاروں کے بھید کھولے گا
فصیل شب سے اتر کر کوئی تو بولے گا
یہ عہد وہ ہے جو قائل نہیں صحیفوں کا
یہ حرف حرف کو مصلوب کر کے تولے گا
اتر ہی جائے گا رگ رگ میں آج زہر سکوت
وہ پیار سے مرے لہجے میں شہد گھولے گا
مرا نصیب ہی ٹھہرا جو رابطوں کی شکست
طلسم جاں کا بھی یہ قفل کوئی کھولے گا
جو سونے دل میں کہیں بس گیا کوئی آسیب
جہاں بھی جاؤ گے سایہ سا ساتھ ہو لے گا
ہے آج وقت ظفرؔ دل کی بات کہہ ڈالیں
کبھی تو وہ بھی ذرا اپنا دل ٹٹولے گا