ترا یقین ہوں میں کب سے اس گمان میں تھا
Zafar Ghauriترا یقین ہوں میں کب سے اس گمان میں تھا
میں زندگی کے بڑے سخت امتحان میں تھا
شجر شجر مری آمد کا منتظر موسم
میں برگ گل سا ہواؤں کی اک اڑان میں تھا
پٹک کے توڑ دیا جس نے تیشۂ جاں کو
میں جوئے شیر سا پنہاں اسی چٹان میں تھا
اندھیری رات میں سمت صدا پہ چھوڑ دیا
ہوس کا تیر جو اس جسم کی کمان میں تھا
اٹھا سکا نہ میں دست تہی سے پتھر بھی
متاع غیر سا وہ کانچ کی دوکان میں تھا
یہ دور علم و ہنر اس کو پڑھ نہیں پایا
صحیفہ دل کا مرا جانے کس زبان میں تھا