ماہ رو نکلے ہے نت اجلی طرح

Obaidullah Khan Mubtala

ماہ رو نکلے ہے نت اجلی طرح

اس سبب روشن ہے دل پتلی طرح

سن مرا رونا ہوا ٹک مہرباں

یار نے برسات میں بدلی طرح

غمزہ کی شمشیر چمکاتا ہے وہ

کیوں نہ ہو دل مضطرب بجلی طرح

مچھی دیتا نئیں مجھے وہ بحر سوں

چھوڑ دی اس نے مگر اگلی طرح

کیوں مرے آگے اکڑ چلتا ہے آج

مجھ کو بھولی نئیں تری پچھلی طرح

سرنگوں ہے سرو قد کی فکر میں

بید نے مجنوں کی سب لیلی طرح

عشق نے آ کر پچھاڑا دل کتیں

گرگ نیں آہو سیں کی جنگلی طرح

مجھ دوانے کی نظر میں اے پری

تاش اور کمخاب ہے کملی طرح

گالی دے کر مسکراتا ہے وہ شوخ

مبتلاؔ اب یوں نئی نکلی طرح