خوب ہے عاشق سوں مل رہنا سجن

Obaidullah Khan Mubtala

خوب ہے عاشق سوں مل رہنا سجن

لاڈ اوس کا ہر گھڑی سہنا سجن

اپنی خاطر سوں دیا مجھ کوں بسار

کیا یہی تھا تجھ سیتی کہنا سجن

راستی سے تجھ کوں کرنا ہے نباہ

ہاتھ جو پکڑا مرا دہنا سجن

مت پہن زیور اپس سنگار کوں

مہر و مہ کوں عیب ہے گہنا سجن

دل نے ہشیاری کی کپڑے پھاڑ کر

خلعت دیوانگی پہنا سجن

عاشقاں کا کام ہے جیوں خار و خس

شوق کے دریاؤں میں بہنا سجن

مبتلاؔ کوں کھو کہ پچتاوے گا توں

ہے مجھے واجب ایتا کہنا سجن