شب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوں
Zafar Ghauriشب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوں
ٹوٹا تارہ ہوں خلاؤں سے اتر آیا ہوں
تجھ سے جو ہو نہ سکا کام وہ کر آیا ہوں
آسماں چھوڑ کے دھرتی پہ اتر آیا ہوں
دشت تنہائی میں بکھرا ہوں ہواؤں کی طرح
اک صدا بن کے دل سنگ میں در آیا ہوں
جانے کس خوف سے پھرتا ہوں میں گھبرایا ہوا
کیا بلا بن کے میں خود اپنے ہی سر آیا ہوں
دل شکستہ سے در و بام کی مدت کے بعد
خیریت پوچھنے اجڑے ہوئے گھر آیا ہوں
شوخ راتوں کے لئے میرے تعاقب میں نہ آ
درد کا چاند ہوں خوابوں میں نظر آیا ہوں
اپنا سایہ بھی ظفرؔ مجھ کو نہ پہچان سکا
کس نئے بھیس میں میں آج ادھر آیا ہوں