فصل گل کو ضد ہے زخم دل کا ہرا کیسے ہو
Zafar Ghauriفصل گل کو ضد ہے زخم دل کا ہرا کیسے ہو
چاندنی بھی ڈس رہی ہے غم کی دوا کیسے ہو
رات کی بلائیں ٹلیں تو شاخ صبح سے اتر
ساحلوں سے پوچھتی ہے موج صبا کیسے ہو
وقت کی نوازشوں نے خون کر دیا سفید
سرگراں تھے ہم گلوں سے رنگ جدا کیسے ہو
آسماں بھی تھک گیا ہے سر پہ ٹوٹ ٹوٹ کے
چلتے چلتے ہے زمیں بھی آبلہ پا کیسے ہو
تن کا چاند ڈھل گیا تو وہ بھی بجھ کے رہ گئی
میں بھی سنگ بے حسی سے ٹوٹ گیا کیسے ہو
میرا سر ہے اس زخم لطف سے جھکا ہوا
اس کا دل بھی غم سے میرے عہدہ برا کیسے ہو
نذر جاں بھی پیش کی تو مسکرا کے پھینک دی
اپنے سر سے زندگی کا قرض ادا کیسے ہو
زندگی سے چل رہی ہے اس طرح ظفرؔ کہ بس!
رد و کد بہر طرف ہے اس کا برا کیسے ہو