نگاہ بد گماں ہے اور میں ہوں

Yaqoob Usmani

نگاہ بد گماں ہے اور میں ہوں

فریب آشیاں ہے اور میں ہوں

شریک‌ بے کسی آئے کہاں سے

زمیں پر آسماں ہے اور میں ہوں

ادھر کیا گھورتی ہے کسمپرسی

مرا عزم جواں ہے اور میں ہوں

سراپا گوش ہے صبح شب تار

کسی کی داستاں ہے اور میں ہوں

گھٹا جاتا ہے دم اے سوز احساس

تہہ دامن دھواں ہے اور میں ہوں

حوادث اب جسے چاہیں سراہیں

نصیب دشمناں ہے اور میں ہوں

قفس نغموں سے گونج اٹھتا ہے یعقوبؔ

امید خوش بیاں ہے اور میں ہوں