Poetry
Poet
Meter
- غم سے جب فیضیاب ہوتا ہےدل بشکل رباب ہوتا ہےTahavvur Ali Zaidi
- غم عشق بتاں ہے اور میں ہوںیہ جان ناتواں ہے اور میں ہوںTahavvur Ali Zaidi
- کہوں بھی تو کہوں اس کے سوا کیاکہ میں کیا اور میرا مدعا کیاTahavvur Ali Zaidi
- محبت حاصل کون و مکاں بھیمحبت ایک سعیٔ رائیگاں بھیTahavvur Ali Zaidi
- مقصود جان و دل شہ ذیشان آپؐ ہیںحقا کہ میرا دیں مرا ایمان آپؐ ہیںTahavvur Ali Zaidi
- نگاہ عاصی کی روز محشر امین رحمت کو تک رہی ہےعجیب عالم ہے بیکسی کا نظر سے حسرت ٹپک رہی ہےTahavvur Ali Zaidi
- وہ اک نظر جو دل سے جگر تک اتر گئیافسانۂ حیات کی تکمیل کر گئیTahavvur Ali Zaidi
- ہر آہ بے اثر ہی نہیں با اثر بھی ہےمدت سے جو ادھر تھا وہ عالم ادھر بھی ہےTahavvur Ali Zaidi
- باڑھ کا پانی اتر گیا ہےمچھلیاںVeneet Raja
- بھٹکتی پیاسدور جھلملاتا اک سرابVeneet Raja
- دھوپ سے تپ رہی ہے چھتفرش پر لیٹی ہوئی ہے چھپکلیVeneet Raja
- کھونٹے سے بندھی بکریاپنے دائرے میںVeneet Raja
- نانی ہر راتاک وہی کہانی سناتی تھیVeneet Raja
- ہم نے بسائے گھربنائے دروازےVeneet Raja
- دنراتVeneet Raja
- دھوپ نےکھڑکی کے شیشوں پرVeneet Raja
- میرا شعورمیرا جہنم ہےVeneet Raja
- یہ جھولتا سایہسانپ ہے یا رسیVeneet Raja
- ایک مدت سےآکاش میںVeneet Raja
- ایک ناگابدن پر مل رہا ہے راکھVeneet Raja
- جو تمہارے کان میں پھونکا گیا تھاوہ تمہارا نام کب تھاVeneet Raja
- سرنگوںقطار بندVeneet Raja
- میں اکثر بکواس کرتا پایا جاتا ہوںمجھے سنجیدگی سے نہ لیا جائےVeneet Raja
- ہم جب جنگل سے نکل کربستی میں آئےVeneet Raja
- باتیں نہ کس نے ہم کو کہیں تیرے واسطےاور ہم نے بھی نہ کس کی سہیں تیرے واسطےعیش دہلوی
- پھرا کسی کا الٰہی کسی سے یار نہ ہوکوئی جہان میں برگشتہ روزگار نہ ہوعیش دہلوی
- پھول اللہ نے بنائے ہیں مہکنے کے لیےاور بلبل کو بنایا ہے چہکنے کے لیےعیش دہلوی
- تو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہےاپنے جینے سے نہ کس طرح وہ بے زار رہےعیش دہلوی
- جرأت اے دل مے و مینا ہے وہ خود کام بھی ہےبزم اغیار سے خالی بھی ہے اور شام بھی ہےعیش دہلوی
- جو ہوتا آہ تری آہ بے اثر میں اثرتو کچھ تو ہوتا دل شوخ فتنہ گر میں اثرعیش دہلوی
- شور اب عالم میں ہے اس شعبدہ پرداز کاچرخ بھی اک شعبدہ ہے جس سراپا ناز کاعیش دہلوی
- عاشقوں کو اے فلک دیوے گا تو آزار کیادشمن جاں ان کا تھوڑا ہے دل بیمار کیاعیش دہلوی
- کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہمفانوس میں وہ جلتی ہے یاں پیرہن میں ہمعیش دہلوی
- کسی کی نیک ہو یا بد جہاں میں خو نہیں چھپتیچھپائے لاکھ خوشبو یا کوئی بدبو نہیں چھپتیعیش دہلوی
- کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کےطعنے سہنے پڑے ہمیں سب کےعیش دہلوی
- میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیںاس پہ بھی صبر ہم اے عربدہ جو کرتے ہیںعیش دہلوی
- میں برا ہی سہی بھلا نہ سہیپر تری کون سی جفا نہ سہیعیش دہلوی
- اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھےمزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھےعیش دہلوی
- جس دل میں تری زلف کا سودا نہیں ہوتاوہ دل نہیں ہوتا نہیں ہوتا نہیں ہوتاعیش دہلوی
- دوست جب دل سا آشنا ہی نہیںاب ہمیں غیر کا گلہ ہی نہیںعیش دہلوی
- اٹھ چکا دل مرا زمانے سےاڑ گیا مرغ آشیانے سےاشرف علی فغاں
- اس جور و جفا سے ترے زنہار نہ ٹوٹےیہ دل تو کسی طرح سے اے یار نہ ٹوٹےاشرف علی فغاں
- اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتاتو معشوقوں کا یہ چرچا نہ ہوتااشرف علی فغاں
- اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کامر گیا آخر کو یہ طالب ترے دیدار کااشرف علی فغاں
- بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہےدامن وصل بھی آلودۂ مایوسی ہےاشرف علی فغاں
- بہار آئی ہے سوتے کو ٹک جگا دیناجنوں ذرا مری زنجیر کو ہلا دینااشرف علی فغاں
- حیف دل میں ترے وفا نہ ہوئیکیوں تری چشم میں حیا نہ ہوئیاشرف علی فغاں
- خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہاکاروان اشک چلتا ہی رہااشرف علی فغاں
- دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کاتیرے مجنوں کو کہاں پاس ہے رسوائی کااشرف علی فغاں
- دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیںدشت میں ناقۂ لیلیٰ کا گزر ہے کہ نہیںاشرف علی فغاں