Poetry

Poet
Meter
  1. غم سے جب فیضیاب ہوتا ہےدل بشکل رباب ہوتا ہےTahavvur Ali Zaidi
  2. غم عشق بتاں ہے اور میں ہوںیہ جان ناتواں ہے اور میں ہوںTahavvur Ali Zaidi
  3. کہوں بھی تو کہوں اس کے سوا کیاکہ میں کیا اور میرا مدعا کیاTahavvur Ali Zaidi
  4. محبت حاصل کون و مکاں بھیمحبت ایک سعیٔ رائیگاں بھیTahavvur Ali Zaidi
  5. مقصود جان و دل شہ ذیشان آپؐ ہیںحقا کہ میرا دیں مرا ایمان آپؐ ہیںTahavvur Ali Zaidi
  6. نگاہ عاصی کی روز محشر امین رحمت کو تک رہی ہےعجیب عالم ہے بیکسی کا نظر سے حسرت ٹپک رہی ہےTahavvur Ali Zaidi
  7. وہ اک نظر جو دل سے جگر تک اتر گئیافسانۂ حیات کی تکمیل کر گئیTahavvur Ali Zaidi
  8. ہر آہ بے اثر ہی نہیں با اثر بھی ہےمدت سے جو ادھر تھا وہ عالم ادھر بھی ہےTahavvur Ali Zaidi
  9. باڑھ کا پانی اتر گیا ہےمچھلیاںVeneet Raja
  10. بھٹکتی پیاسدور جھلملاتا اک سرابVeneet Raja
  11. دھوپ سے تپ رہی ہے چھتفرش پر لیٹی ہوئی ہے چھپکلیVeneet Raja
  12. کھونٹے سے بندھی بکریاپنے دائرے میںVeneet Raja
  13. نانی ہر راتاک وہی کہانی سناتی تھیVeneet Raja
  14. ہم نے بسائے گھربنائے دروازےVeneet Raja
  15. دنراتVeneet Raja
  16. دھوپ نےکھڑکی کے شیشوں پرVeneet Raja
  17. میرا شعورمیرا جہنم ہےVeneet Raja
  18. یہ جھولتا سایہسانپ ہے یا رسیVeneet Raja
  19. ایک مدت سےآکاش میںVeneet Raja
  20. ایک ناگابدن پر مل رہا ہے راکھVeneet Raja
  21. جو تمہارے کان میں پھونکا گیا تھاوہ تمہارا نام کب تھاVeneet Raja
  22. سرنگوںقطار بندVeneet Raja
  23. میں اکثر بکواس کرتا پایا جاتا ہوںمجھے سنجیدگی سے نہ لیا جائےVeneet Raja
  24. ہم جب جنگل سے نکل کربستی میں آئےVeneet Raja
  25. باتیں نہ کس نے ہم کو کہیں تیرے واسطےاور ہم نے بھی نہ کس کی سہیں تیرے واسطےعیش دہلوی
  26. پھرا کسی کا الٰہی کسی سے یار نہ ہوکوئی جہان میں برگشتہ روزگار نہ ہوعیش دہلوی
  27. پھول اللہ نے بنائے ہیں مہکنے کے لیےاور بلبل کو بنایا ہے چہکنے کے لیےعیش دہلوی
  28. تو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہےاپنے جینے سے نہ کس طرح وہ بے زار رہےعیش دہلوی
  29. جرأت اے دل مے و مینا ہے وہ خود کام بھی ہےبزم اغیار سے خالی بھی ہے اور شام بھی ہےعیش دہلوی
  30. جو ہوتا آہ تری آہ بے اثر میں اثرتو کچھ تو ہوتا دل شوخ فتنہ گر میں اثرعیش دہلوی
  31. شور اب عالم میں ہے اس شعبدہ پرداز کاچرخ بھی اک شعبدہ ہے جس سراپا ناز کاعیش دہلوی
  32. عاشقوں کو اے فلک دیوے گا تو آزار کیادشمن جاں ان کا تھوڑا ہے دل بیمار کیاعیش دہلوی
  33. کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہمفانوس میں وہ جلتی ہے یاں پیرہن میں ہمعیش دہلوی
  34. کسی کی نیک ہو یا بد جہاں میں خو نہیں چھپتیچھپائے لاکھ خوشبو یا کوئی بدبو نہیں چھپتیعیش دہلوی
  35. کیا ہوئے عاشق اس شکر لب کےطعنے سہنے پڑے ہمیں سب کےعیش دہلوی
  36. میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیںاس پہ بھی صبر ہم اے عربدہ جو کرتے ہیںعیش دہلوی
  37. میں برا ہی سہی بھلا نہ سہیپر تری کون سی جفا نہ سہیعیش دہلوی
  38. اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھےمزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھےعیش دہلوی
  39. جس دل میں تری زلف کا سودا نہیں ہوتاوہ دل نہیں ہوتا نہیں ہوتا نہیں ہوتاعیش دہلوی
  40. دوست جب دل سا آشنا ہی نہیںاب ہمیں غیر کا گلہ ہی نہیںعیش دہلوی
  41. اٹھ چکا دل مرا زمانے سےاڑ گیا مرغ آشیانے سےاشرف علی فغاں
  42. اس جور و جفا سے ترے زنہار نہ ٹوٹےیہ دل تو کسی طرح سے اے یار نہ ٹوٹےاشرف علی فغاں
  43. اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتاتو معشوقوں کا یہ چرچا نہ ہوتااشرف علی فغاں
  44. اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کامر گیا آخر کو یہ طالب ترے دیدار کااشرف علی فغاں
  45. بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہےدامن وصل بھی آلودۂ مایوسی ہےاشرف علی فغاں
  46. بہار آئی ہے سوتے کو ٹک جگا دیناجنوں ذرا مری زنجیر کو ہلا دینااشرف علی فغاں
  47. حیف دل میں ترے وفا نہ ہوئیکیوں تری چشم میں حیا نہ ہوئیاشرف علی فغاں
  48. خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہاکاروان اشک چلتا ہی رہااشرف علی فغاں
  49. دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کاتیرے مجنوں کو کہاں پاس ہے رسوائی کااشرف علی فغاں
  50. دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیںدشت میں ناقۂ لیلیٰ کا گزر ہے کہ نہیںاشرف علی فغاں