ترا بلبل ہوں تجھ گل کی قسم ہے

Obaidullah Khan Mubtala

ترا بلبل ہوں تجھ گل کی قسم ہے

برہ سوں مست ہوں مل کی قسم ہے

رقیب رو سیہ کھاوے گا اب مار

مجھے تجھ کالے کاکل کی قسم ہے

لئے دل پھرتے ہیں دور زلف میں

مجھے اوس کے تسلسل کی قسم ہے

نہ کر توں بوالہوس اوپر تلطف

ترے دل کے تامل کی قسم ہے

خدا آخر کرے گا خوش مرا دل

مجھے اپنے توکل کی قسم ہے

نہیں ہوتا ہوں ملنے سیں کبھی سیر

ترے من کے تفضل کی قسم ہے

نہ رہ غافل توں اپنے مبتلاؔ سوں

تجھے تیرے تغافل کی قسم ہے