فریاد کہ وہ شوخ ستم گار نہ آیا
Obaidullah Khan Mubtalaفریاد کہ وہ شوخ ستم گار نہ آیا
مجھ قتل کوں لے ہاتھ میں تلوار نہ آیا
میں پنبہ نمن نرم کیا بستر تن کوں
وہ پیو قدم دھرنے کو یکبار نہ آیا
چھٹ آہ پچھے کون مرے درد کا احوال
مجھ دکھ کی خبر لینے وہ غم خوار نہ آیا
جانے ہے وفادار مجھے دل منے لیکن
دہشت سے رقیباں کی وہ ناچار نہ آیا
آرام گیا بھوک نہیں نیند گئی بھول
افسوس کہ وہ طالع بیدار نہ آیا
بلبل کی نمن آس ہے نت باس کی مجھ کوں
صد حیف مرے پاس وہ گلزار نہ آیا
بازار سخن گرم کیا اوس کی صفت سوں
مجھ شعر کا ہیہات خریدار نہ آیا
لکھ بار سہا باغ میں مالی کا تہورا
پر سیر کتیں وہ گل بے خار نہ آیا
اے مبتلاؔ یہ بات لکھا دل کے اوپر میں
اک روز مجھ آغوش میں وہ یار نہ آیا