صد حیف کہ کمزور ہے چشمان بڑھاپا

Obaidullah Khan Mubtala

صد حیف کہ کمزور ہے چشمان بڑھاپا

سستی ستی جنبش میں ہے دندان بڑھاپا

از بسکہ ہوا ہے گا گزر فصل خزاں کا

رونق نہیں رکھتا ہے گلستان بڑھاپا

اربل کے بھنور میں گئی ہے ڈوب جوانی

جس وقت اٹھا جگ منے طوفان بڑھاپا

تسبیح‌ و مصلا و عصا عینک و رعشہ

جوبن نے دیا بھیج یہ سامان بڑھاپا

غفلت کی روئی دور نہ کی شیشۂ دل سوں

مے خانہ میں مستاں نے سن الحان بڑھاپا

اشعار ہیں تعریف سپیدی کی سراپا

اس واسطے رنگیں نہیں دیوان بڑھاپا

جوبن کے بھون میں لگی ہے آتش گرمی

چھڑکے ہے طہور آب زمستان بڑھاپا

گردوں کی طرح خم ہوا قد قوس قزح کا

کھینچا ہے مگر ضعف سوں کیوان بڑھاپا

امراض کی افواج کا یورش ہے بدن پر

اس ملک میں مغلوب ہے سلطان بڑھاپا

اب بلبل‌ جاں تنگ ہوا تن کے قفس میں

پرواز کرے دیکھ کے زندان بڑھاپا

لذت نہیں دیتا ہے دہن بیچ کسو کے

اے مبتلاؔ کیا سرد ہے گا نان بڑھاپا