نظر مت بوالہوس پر کر ارے چنچل سنبھال انکھیاں

Obaidullah Khan Mubtala

نظر مت بوالہوس پر کر ارے چنچل سنبھال انکھیاں

کہ اس بد فعل سوں کھنچیں گی آخر انفعال انکھیاں

جدائی سے ہووے مفرور جاں قالب کے صوبہ سوں

اپس دیدار سوں کرتی ہیں پھر اس کوں بحال انکھیاں

نگاہ گرم گل رو سیں ہوا روشن یو مالی پر

کہ اب سورج نمن نرگس پہ لادیں گی زوال انکھیاں

ہوا معلوم بد کاراں طرف نت سین کرنے سوں

کہ رجوارے میں بستی ہیں سریجن کی جہال انکھیاں

جہاں کے راوتاں سوں غمزہ کے نیزہ کوں چمکا کر

نظر بازی کے میداں بیچ کرتی ہیں قتال انکھیاں

مروت کا اثر دستا نہیں اس شوخ چتون میں

مگر رکھتی ہیں عاشق سوں اپس دل میں ملال انکھیاں

سیہ چشمی ہوئی ظاہر للن کی چشم پوشی میں

چھپاتی ہیں اپس مشتاق سوں اپنا جمال انکھیاں