ٹوٹے تختے پر سمندر پار کرنے آئے تھے

Zafar Ghauri

ٹوٹے تختے پر سمندر پار کرنے آئے تھے

ہم سفر طوفان غم سے پیار کرنے آئے تھے

ڈر کے جنگل کی فضا سے پیچھے پیچھے ہو لیے

لوگ چھپ کر قافلے پر وار کرنے آئے تھے

اس گنہ پر مل رہی ہے سنگ ساری کی سزا

پتھروں کو نیند سے بیدار کرنے آئے تھے

لوگ سمجھے اپنی سچائی کی خاطر جان دی

ورنہ ہم تو جرم کا اقرار کرنے آئے تھے

وہ بھی کرب خود بیانی میں ظفرؔ غلطاں ملا

جس سے اپنی ذات کا اظہار کرنے آئے تھے