آندھی ہے تیز دھول سے گھر اور اٹ نہ جائے
Zafar Ghauriآندھی ہے تیز دھول سے گھر اور اٹ نہ جائے
ٹوٹے کواڑ بند کرو دم الٹ نہ جائے
بے سمت زندگی کا سفر بن کی رات ہے
ناگن سا وقت ڈس کے اچانک پلٹ نہ جائے
اجڑا ہوا مکان ہے دستک نہ دیجیے
سایہ کوئی کہیں سے نکل کر لپٹ نہ جائے
چھوٹا سا گھر سہی اسے رکھیے سنبھال کے
ملکوں کی قسمتوں کی طرح یہ بھی بٹ نہ جائے
شیشے کے گھر میں سوچ کے رکھیے ظفرؔ قدم
سنگ صدا کی چوک سے دیوار پھٹ نہ جائے