سات رنگوں سے بنی ہے یاد تازہ
Zafar Ghauriسات رنگوں سے بنی ہے یاد تازہ
دھوپ لکھ لائی مبارک باد تازہ
بن گئی جنت تو ہجرت کر گئے ہیں
نو بہ نو ہے دشت جاں آباد تازہ
لفظ و معنی کا زیاں ہے خود عذابی
لوح دل پر ہے قلم کی داد تازہ
آب تازہ خنجر خاموش کو دے
ہے بریدہ لب پہ پھر فریاد تازہ
پھر بہانے جائے گا لاوا لہو کا
خشت دل پر گھر کی رکھ بنیاد تازہ
بے چراغاں بستیوں کو زندگی دے
اک ستم ایسا بھی کر ایجاد تازہ
ایسی چپ سے اور دل گھٹنے لگا ہے
کچھ تو ہو روح نوا ارشاد تازہ