Poetry
Poet
Meter
- اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہےہے سفر ختم اک آشوب سفر باقی ہےAah Sambhali
- اداسیوں کا مسلسل یہ دور چلنا ہےنہ کوئی حادثہ ہونا نہ جی بہلنا ہےAah Sambhali
- پس ساحل تماشا کیا ہے بڑھ کر دیکھ لینا تھاکہ پہلے پھینک کر دریا میں پتھر دیکھ لینا تھاAah Sambhali
- تعلقات مسلسل بھی تازیانے تھےوہ دھاگے ٹوٹ گئے جو بہت پرانے تھےAah Sambhali
- جاگنا سائے میں اور دھوپ میں سونا اس کااس کے احساس سے ثابت تھا نہ ہونا اس کاAah Sambhali
- خضر جس سے بنے اس آب بقا سے ڈریےلمبی عمروں سے بزرگوں کی دعا سے ڈریےAah Sambhali
- سدا بہار جو تھے درد وہ پرانے گئےہمارے ساتھ میں موسم بھی سب سہانے گئےAah Sambhali
- صبح بے نور نہ ہو دھیان میں رکھایک سورج کو گریبان میں رکھAah Sambhali
- کوئی رکنے کی ترے شہر میں تدبیر نہ تھیمیرے ہاتھوں میں تری زلف بھی زنجیر نہ تھیAah Sambhali
- مت فکر مداوا کر اے دست مسیحائیدریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائیAah Sambhali
- مجھے بھی پڑھ لو کہ حرف ثواب بن جاؤںورق ورق ہوں کسی دن کتاب بن جاؤںAah Sambhali
- وہ تو ہے دشمن جاں داد وفا کیا دے گاجو کبھی زہر نہ دے پایا دوا کیا دے گاAah Sambhali
- وہ واہمہ ہے کہاں یہ اصول جانا تھاملے تھے اس سے تو پھر اس کو بھول جانا تھاAah Sambhali
- یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیںمحبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیںAah Sambhali
- اب دل کو ہم نے بندۂ جاناں بنا دیااک کافر ازل کو مسلماں بنا دیااقبال سہیل
- اسیروں میں بھی ہو جائیں جو کچھ آشفتہ سر پیداابھی دیوار زنداں میں ہوا جاتا ہے در پیدااقبال سہیل
- اف کیا مزا ملا ستم روزگار میںکیا تم چھپے تھے پردۂ لیل و نہار میںاقبال سہیل
- پیغام رہائی دیا ہر چند قضا نےدیکھا بھی نہ اس سمت اسیران وفا نےاقبال سہیل
- جو تصور سے ماورا نہ ہواوہ تو بندہ ہوا خدا نہ ہوااقبال سہیل
- حسن فطرت کی آبرو مجھ سےآب و گل میں ہے رنگ و بو مجھ سےاقبال سہیل
- زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سےتجلی گاہ ایمن ہے دل دیوانہ برسوں سےاقبال سہیل
- زنداں نصیب ہوں مرے قابو میں سر نہیںمیرا سجود ان کے لیے معتبر نہیںاقبال سہیل
- صدا فریاد کی آئے کہیں سےوہ ظالم بد گماں ہوگا ہمیں سےاقبال سہیل
- کہاں طاقت یہ روسی کو کہاں ہمت یہ جرمن کوکہ دیکھے چشم کج سے بھی مری شاخ نشیمن کواقبال سہیل
- نہ رہا ذوق رنگ و بو مجھ کواب نہ چھیڑ اے بہار تو مجھ کواقبال سہیل
- یہ عطر بیزیاں نہیں نسیم نوبہار کیاڑا کے لائی ہے صبا شمیم زلف یار کیاقبال سہیل
- گاندھیاقبال سہیل
- وہ سامنے جب آ جاتے ہیں سکتے کا سا عالم ہوتا ہےاس دل کی تباہی کیا کہئے امرت بھی جسے سم ہوتا ہےاقبال سہیل
- اسی زمین پہ ناچار لوٹ کر آئےجو آسمان سے اونچی اڑان بھر آئےBadr-e-Alam Khan Azmi
- انتخابی دور میں شعلہ بیانی چھوڑ دیاس نے مجھ سے ہر طرح کی بد گمانی چھوڑ دیBadr-e-Alam Khan Azmi
- بصد فریب اسے کیا سے کیا دکھائی دےکہ ابتدا میں جسے انتہا دکھائی دےBadr-e-Alam Khan Azmi
- بقا کے ساتھ انا کا سوال آتا ہےکسی عروج پہ جب بھی زوال آتا ہےBadr-e-Alam Khan Azmi
- تمام قہر و بلا سے ہے واسطہ میراہر ایک حادثہ لگتا ہے حادثہ میراBadr-e-Alam Khan Azmi
- خود آگہی نے لہو میں ڈبو دیا مجھ کوشعور ذات کی ایسی ملی سزا مجھ کوBadr-e-Alam Khan Azmi
- دریا کی بے پناہ روانی سے ڈر لگاوہ سگ گزیدہ تھا اسے پانی سے ڈر لگاBadr-e-Alam Khan Azmi
- دست قاتل میں کوئی تیغ نہ خنجر ہوتامرا سایہ جو مرے قد کے برابر ہوتاBadr-e-Alam Khan Azmi
- دھوکہ ہے اگر آنکھ میں قاتل کی نمی ہےشعلوں پہ کہیں آج تلک برف جمی ہےBadr-e-Alam Khan Azmi
- شور انگیز وہ خوں بار ہوا بھی آئےاور دبے پاؤں کبھی باد صبا بھی آئےBadr-e-Alam Khan Azmi
- فاقہ مستی میں بھی جینے کی ادا لے جائیں گےیہ لٹیرے میرے گھر سے اور کیا لے جائیں گےBadr-e-Alam Khan Azmi
- فلک سے چل کے یہاں ماہتاب آئے گاہمارے پاس کوئی بے نقاب آئے گاBadr-e-Alam Khan Azmi
- کبھی دیوار لرزتی ہے تو در چیختا ہےجانے کیا بات ہے دن رات یہ گھر چیختا ہےBadr-e-Alam Khan Azmi
- کتنا بے چین ہے خاموش سمندر دیکھودل کی گہرائی میں اک روز اتر کر دیکھوBadr-e-Alam Khan Azmi
- ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیادرد پہلو میں جہاں بھی تھا وہیں دل ہو گیاباسط بھوپالی
- جیسے بھی یہ دنیا ہے جو کچھ بھی زمانا ہےسب تیری کہانی ہے سب میرا فسانا ہےباسط بھوپالی
- حیات و موت کا اک سلسلا ہےمحبت انتہا تک ابتدا ہےباسط بھوپالی
- سب کائنات حسن کا حاصل لئے ہوئےبیٹھا ہوں دل میں عشق کی محفل لئے ہوئےباسط بھوپالی
- عشق ستم پرست کیا حسن ستم شعار کیاہم بھی انہیں کے ہیں تو پھر اپنا بھی اعتبار کیاباسط بھوپالی
- کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کاشمع نے لوٹ لیا سوز بھی پروانے کاباسط بھوپالی
- کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتاوہ رہ گزر ہوں جسے کارواں نہیں ملتاباسط بھوپالی
- کوئی معیار محبت نہ رہا میرے بعدہر طرف عام ہیں خاصان وفا میرے بعدباسط بھوپالی