وقت کا سانس بھی طوفان کا ٹھہراؤ لگے

Zafar Ghauri

وقت کا سانس بھی طوفان کا ٹھہراؤ لگے

اس کڑی رت میں کہاں ٹوٹی ہوئی ناؤ لگے

ہر نفس روح میں اک زہر بھرا گھاؤ لگے

ہر صدا چیختے الفاظ کا پتھراؤ لگے

خیمہ زن ہوگی اسی جا پہ سواری گل کی

اے صبا دشت میں پھر خون کا چھڑکاؤ لگے

پھر سے تجدید ستم کی نئی صورت نکلی

حد سے بدلا ہوا احباب کا برتاؤ لگے

لوگ کہتے ہیں وفا جنس گراں مایہ ہے

شہر میں لے تو چلیں دیکھ لیں کیا بھاؤ لگے

ہر ادا اس کی ظفرؔ جوئے رواں کی مانند

دل میں جھانکوں تو سمندر کا سا پھیلاؤ لگے