چل پڑے ہم دشت بے سایہ بھی جنگل ہو گیا
Zafar Ghauriچل پڑے ہم دشت بے سایہ بھی جنگل ہو گیا
ہم سفر جب مل گئے جنگل میں منگل ہو گیا
میں تھا باغی خشک قطرہ بادلوں کے دیس کا
سنگ دل لمحوں سے ٹکرایا تو جل تھل ہو گیا
ہاں اتر آتی ہیں اس وادی میں پریاں چاند کی
کہتے ہیں اک اجنبی سیاح پاگل ہو گیا
رس بھری برسات میں کھلنے لگا دھرتی کا روپ
جسم کا آکاش اس خوشبو سے بے کل ہو گیا
دور کھسکی جا رہی ہے پاؤں کے نیچے زمیں
سر کے اوپر آسماں آنکھوں سے اوجھل ہو گیا
کتنے قرنوں نے تراشا اس بت بے درد کو
کتنی نسلوں کا لہو اس جسم میں حل ہو گیا
عمر بھر دونوں کو قید باہمی کی دی سزا
وہ جو اغوا کا مقدمہ تھا سو فیصل ہو گیا
ہر نفس ہے سنگ باری دل کے کچے گھاؤ پر
لمحہ لمحہ زندگی کا کتنا بوجھل ہو گیا