سزا ملی ہے بکھرنے کی اور سمٹنے کی
Zafar Ghauriسزا ملی ہے بکھرنے کی اور سمٹنے کی
خطا ہوئی تھی ہواؤں سے کل لپٹنے کی
کتاب دل کی جبیں پر رقم تھی وہ تحریر
کسی میں تاب نہ تھی پھر ورق الٹنے کی
صبا نے بات اڑا لی مہکتے رنگوں سے
کسی درخت سے اک بیل کے لپٹنے کی
دلوں میں ٹوٹ گئے رابطوں کے سب ٹانکے
خبر ہے ریل کے نیچے کسی کے کٹنے کی
نہ پار ہو سکی لمحوں کی تیز رو ندی
لگی ہے چوٹ کہیں کائی پر رپٹنے کی
تلاش کرتا ہوں انجام خواب ریزی کا
یہ زندگی ہے سزا کچی نیند اچٹنے کی
بنے ہیں کتنے ہی پتھر کے اس خرابے میں
خطا طلسم سفر سے تھی رخ پلٹنے کی