حل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہے
Yaqoob Usmaniحل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہے
مکتوب ازل حرف تمنا تو نہیں ہے
دل ہی کی خدائی ہے یہاں آج بھی اے دوست
پابند نظر کیف کی دنیا تو نہیں ہے
بے بہرۂ عرفان محبت ہے ازل سے
سوچا ہے تجھے عقل نے دیکھا تو نہیں ہے
اندوہ بد اماں نہ ہو خود موج ترنم
آواز کا ہر شعبدہ نغما تو نہیں ہے
ہر راہ نظر آنے لگے مجھ کو رہ راست
بے راہروی تیرا یہ منشا تو نہیں ہے
غم کیا اگر آزاد مسلسل ہے مری زیست
منت کش اعجاز مسیحا تو نہیں ہے
یعقوبؔ سنانا ہے مجھے دل کی زباں میں
افسانے کا پہلو کوئی تشنا تو نہیں ہے