دل میں رکھ زخم نوا راہ میں کام آئے گا

Zafar Ghauri

دل میں رکھ زخم نوا راہ میں کام آئے گا

دشت بے سمت میں اک ہو کا مقام آئے گا

اس طرح پڑھتا ہوں بہتے ہوئے دریا کی کتاب

صفحۂ آب پر اک عکس پیام آئے گا

قریۂ جاں میں تھے یادوں کے شناسا چہرے

اجنبی شہر میں کس کس کا سلام آئے گا

مصلحت کیش تو گلہائے ستائش سے لدے

سچ کے ہاتھوں میں وہی زہر کا جام آئے گا

رقص رفتار سے کیا روند چلا پھولوں کو

آگ پر چل کہ تجھے لطف خرام آئے گا

خنجر زہر وفا دل میں چھپائے کب سے

منتظر ہوں کہ ادھر وہ سر شام آئے گا

دیدۂ دل سے ظفرؔ خواب بھی چھن جائیں گے

وقت کہتا ہے کہ اب ایسا نظام آئے گا