ہمکتی کونپلوں کو خشک گھاس کر دے گی
Zafar Ghauriہمکتی کونپلوں کو خشک گھاس کر دے گی
ہوا درختوں کو پھر بے لباس کر دے گی
شگفتہ پھول ہیں محفوظ رکھو موسم سے
یہ سخت دھوپ تو پھولوں کا ناس کر دے گی
سلگتے چاند سا میں تیرے ساتھ ساتھ رہا
سفر کی شام تجھے بھی اداس کر دے گی
اسی سبب تو میں دشت بلا میں چپ چپ تھا
یہ آپ بیتی تمہیں بد حواس کر دے گی
نظر میں اڑتی رہی یوں ہی گرد گمراہی
تو جسم و جاں کو بہم نا شناس کر دے گی
اتر ہی آؤں گا اک دن خلا کے مسکن سے
ہوا کو قید یہ مٹی کی باس کر دے گی