شوق کی کم نگہی بھی ہے گوارا مجھ کو

Yaqoob Usmani

شوق کی کم نگہی بھی ہے گوارا مجھ کو

غم تو غم آج خوشی بھی ہے گوارا مجھ کو

جستجو ساتھ ہے شمع رہ منزل بن کر

اپنی بے راہروی بھی ہے گوارا مجھ کو

لذت‌ زیست بہ ہر طور سبھی کو ہے عزیز

زہر مینائے خودی بھی ہے گوارا مجھ کو

سوزن رحم و کرم کرتی ہے کیوں سعئ رفو

چاک دامان تہی بھی ہے گوارا مجھ کو

آپ للہ نہ فرمائیں زیادہ زحمت

اب توجہ کی کمی بھی ہے گوارا مجھ کو

صرف تر دامنئ دل ہی پہ اصرار نہیں

چشم پر نم کی کمی بھی ہے گوارا مجھ کو

جرأت عرض تمنا سے ہوں بد ظن یعقوبؔ

ضبط کی کم سخنی بھی ہے گوارا مجھ کو