زباں کچھ اور کہتی ہے نظر کچھ اور کہتی ہے

Yaqoob Usmani

زباں کچھ اور کہتی ہے نظر کچھ اور کہتی ہے

بظاہر یہ توجہ چارہ گر کچھ اور کہتی ہے

زمانہ نغمہ پیرائی کا جب آئے گا آئے گا

ابھی تو شدت سوز جگر کچھ اور کہتی ہے

بھلا آپ اور اخفائے حقیقت اے معاذ اللہ

زبان خلق جھوٹی ہے اگر کچھ اور کہتی ہے

کوئی کس طرح دھوکا کھائے اس آتش بیانی کا

اداسی تیری اے شمع سحر کچھ اور کہتی ہے

اسی تشخیص پر اترا رہا تھا ایک مدت سے

مسیحا دیکھ نبض بحر و بر کچھ اور کہتی ہے

تری عظمت کا منکر تھا نہ ہوں اے رہبر کامل

اب اس کو کیا کروں میں رہ گزر کچھ اور کہتی ہے

بھرم یعقوبؔ کھلنے ہی کو ہے اب آسمانوں کا

زمیں سے گردش شمس و قمر کچھ اور کہتی ہے