Poetry
Poet
Meter
- ہم نے آنکھ سے دیکھا کتنے سورج نکلے ڈوب گئےلیکن تاروں سے پوچھو کب نکلے چمکے ڈوب گئےEjaz Obaid
- ہنسنے میں رونے کی عادت کبھی ایسی تو نہ تھیتیری شوخی غم فرقت کبھی ایسی تو نہ تھیEjaz Obaid
- سحر ہوتے ہی کوئی ہو گیا رخصت گلے مل کرفسانے رات کے کہتی رہی ٹوٹی ہوئی چوڑیEjaz Obaid
- مقید ہو نہ جانا ذات کے گنبد میں یاروکسی روزن کسی دروازہ کو وا چھوڑ دیناEjaz Obaid
- اب تک ہماری عقل سے پردہ ہٹا نہیںسمجھا اسی کو آسرا جو آسرا نہیںIftikhar Ahamad Siddiqi
- اس قدر عام نہ کر انجمن آرائی کوہم ترس جائیں مذاق غم تنہائی کوIftikhar Ahamad Siddiqi
- اول تو جلوہ گاہ میں دل کی بساط کیادل ہے جنوں نواز تو پھر احتیاط کیاIftikhar Ahamad Siddiqi
- ایک ہی نغمہ کبھی سوز کبھی ساز میں ہےایسا اعجاز فقط وقت کی آواز میں ہےIftikhar Ahamad Siddiqi
- پہلے میرے پاؤں میں زنجیر عصیاں دیکھیےپھر تماشائے طلسم بزم امکاں دیکھیےIftikhar Ahamad Siddiqi
- ترے حضور نہ خالی کسی کا جام رہاوہ خوش نصیب تو میں ہوں کہ تشنہ کام رہاIftikhar Ahamad Siddiqi
- تنظیم دہر کی تو سہی خیر و شر کے ساتھلیکن خطا و سہو لگا کر بشر کے ساتھIftikhar Ahamad Siddiqi
- خواب میں آیا نظر مصر کا بازار مجھےاس کی تعبیر تو دے اے نگہ یار مجھےIftikhar Ahamad Siddiqi
- دنیا میں بے حجاب مری ذات بھی تو ہواے عشق تیری کوئی کرامات بھی تو ہوIftikhar Ahamad Siddiqi
- شراب حسن سے کچھ ایسے ہم ہوئے مخمورکہ ہوش تک نہ تھا باقی کہاں کا حسن شعورIftikhar Ahamad Siddiqi
- شکوۂ بخت ہے فضول گردش روزگار کیاوقت کی تو بساط الٹ بیٹھا ہے سوگوار کیاIftikhar Ahamad Siddiqi
- عجیب چیز ہے دل آدمی کے سینے میںہے کائنات کا ہر راز اس دفینے میںIftikhar Ahamad Siddiqi
- عشق میں سوز نہ ہو حسن میں تسخیر نہ ہوپھر تو تخریب ہی دنیا میں ہو تعمیر نہ ہوIftikhar Ahamad Siddiqi
- کوئی تکلیف ہماری ہے نہ غم آپ کے ہیںآج سے آپ ہمارے ہیں نہ ہم آپ کے ہیںIftikhar Ahamad Siddiqi
- کھلا یہ آدم و ابلیس کے فسانے سےکہ یہ جہان بنا ہے فریب کھانے سےIftikhar Ahamad Siddiqi
- گلشن دہر کی فضا اب نہیں سوگوار کیادور خزاں سے ہو گئی عہدہ برا بہار کیاIftikhar Ahamad Siddiqi
- معاف اے شان کبریائی یہ عرض میری گلہ نہیں ہےکہ تیرے در کے سوا مرا سر کسی کے در پر جھکا نہیں ہےIftikhar Ahamad Siddiqi
- یہ کفر ہم نے کیا عمر بھر خدا جانےخدا کی ذات کو انساں سے ماورا جانےIftikhar Ahamad Siddiqi
- اٹھائیں ہجر کی شب دل نے آفتیں کیا کیاامید وصل میں جھیلیں مصیبتیں کیا کیاعزیز حیدرآبادی
- ان کی ٹھوکر میں شرارت ہوگیفتنے اٹھیں گے قیامت ہوگیعزیز حیدرآبادی
- بڑھ گئیں گستاخیاں میری سزا کے ساتھ ساتھپیار آتا ہے تری جور و جفا کے ساتھ ساتھعزیز حیدرآبادی
- جفا دیکھنی تھی ستم دیکھنا تھانصیبوں میں رنج و الم دیکھنا تھاعزیز حیدرآبادی
- درد جاتا نظر نہیں آتاحال اچھا نظر نہیں آتاعزیز حیدرآبادی
- زندگی نام ہے محبت کامرگ انجام ہے محبت کاعزیز حیدرآبادی
- شوخی اف رے تری نظر کییہ پھانس بنی مرے جگر کیعزیز حیدرآبادی
- شوخی سے کشمکش نہیں اچھی حجاب کیکھل جائے گی گرہ ترے بند نقاب کیعزیز حیدرآبادی
- ظالم ترے وعدوں نے دیوانہ بنا رکھاشمع رخ انور کا پروانہ بنا رکھاعزیز حیدرآبادی
- کوئی رسوا کوئی سودائی ہےاک جہاں آپ کا شیدائی ہےعزیز حیدرآبادی
- کیوں خفا ہو کیوں ادھر آتے نہیںدیکھتا ہوں تم نظر آتے نہیںعزیز حیدرآبادی
- نازنینان جہاں شعبدہ گر پکے ہیںدیکھنے کو تو یہ بھولے ہیں مگر پکے ہیںعزیز حیدرآبادی
- نالے دم لیتے نہیں یارب فغاں رکتی نہیںگو قفس میں بند ہوں لیکن زباں رکتی نہیںعزیز حیدرآبادی
- نعرۂ تکبیر بھی زاہد نثار نغمہ ہےکس قدر اللہ اکبر اعتبار نغمہ ہےعزیز حیدرآبادی
- نگاہ ناز میں حیا بھی ہےاس بناوٹ کی انتہا بھی ہےعزیز حیدرآبادی
- وحشت دل کا عجب رنگ نظر آتا ہےعرصۂ حشر مجھے تنگ نظر آتا ہےعزیز حیدرآبادی
- محبت کا مجھے دعویٰ ہی کیا ہےچلو جانے بھی دو جھگڑا ہی کیا ہےعزیز حیدرآبادی
- نہ بدلنا تھا نہ بدلا دل شیدا اپنارنگ ہر وقت بدلتی رہی دنیا اپناعزیز حیدرآبادی
- ابھی تک تشنۂ تکمیل میری زندگانی ہےابھی تک انتظار دوست کی باقی کہانی ہےBadr Jamali
- اپنے چہرے پر کئی چہرے لیےہم بڑے ہی پارسا بن کر جیےBadr Jamali
- بڑی حسین و طرب زا کتاب پڑھتا ہوںمیں ان کا قصۂ اوج شباب پڑھتا ہوںBadr Jamali
- تھا انجمن میں غیر کی دلبر بنا ہوابیٹھا ہے میرے سامنے پتھر بنا ہواBadr Jamali
- حق کہا دار پہ جس نے وہ بشر کیسا تھاسچ بتاؤ مجھے وہ اہل نظر کیسا تھاBadr Jamali
- دل پہ کیسی یہ بپتا پڑیہے رواں آنسوؤں کی جھڑیBadr Jamali
- دل کا جب افسانہ لکھغم کو صاحب خانہ لکھBadr Jamali
- زباں پر آرزو کی بات لانا سخت مشکل ہےمگر راز محبت کا چھپانا سخت مشکل ہےBadr Jamali
- زندگی کا ہے یہ بھی کوئی ڈھنگنہ کوئی آرزو نہ کوئی امنگBadr Jamali
- قطرے میں دریا ذرے میں صحرا دکھائی دےوا دل کی آنکھ ہو تو تماشا دکھائی دےBadr Jamali