اس قدر عام نہ کر انجمن آرائی کو
Iftikhar Ahamad Siddiqiاس قدر عام نہ کر انجمن آرائی کو
ہم ترس جائیں مذاق غم تنہائی کو
آزمایا جو کبھی اس نے شکیبائی کو
منزلیں ڈھونڈنے نکلیں ترے سودائی کو
سن کے روداد شب ہجر جو کی نیچی نظر
چار چاند اور لگے حسن کی رعنائی کو
سرمدی کیف فقط عشق کے آغاز میں ہے
کوئی مطلب نہیں انجام سے سودائی کو
اب اذیت میں کمی آ گئی اے دور فلک
طول کچھ اور جہان شب تنہائی کو
تو نے صیاد اسیروں کے فقط ہونٹ سیئے
سلب آنکھوں سے بھی کر قوت گویائی کو
خلش ظلمت انجام اسے کیا ہوگی
شب تنہائی جو سمجھے شب تنہائی کو