خواب میں آیا نظر مصر کا بازار مجھے

Iftikhar Ahamad Siddiqi

خواب میں آیا نظر مصر کا بازار مجھے

اس کی تعبیر تو دے اے نگہ یار مجھے

بخش کر روز ازل دیدۂ بے دار مجھے

تو نے دنیا کا کیا مالک و مختار مجھے

لطف یہ ہے کہ ملائک کے لیے صرف سجود

اور تخلیق کی ہر منزل دشوار مجھے

کجروی بن گئی زنجیر مرے پاؤں کی

تو نے کیوں کی تھی عطا وقت کی رفتار مجھے

پرسش غم سے اذیت میں اضافہ تو نہ ہو

حال پہ میرے اگر چھوڑ دیں غم خوار مجھے

دل غم دیدۂ انجام لرز جاتا ہے

جب سر بزم وہ کہتے ہیں وفادار مجھے

مجھ میں ہے تاب نظر میں تو نہ ہوتا بے ہوش

تو اگر آتا نظر طور پہ سو بار مجھے