اپنے چہرے پر کئی چہرے لیے

Badr Jamali

اپنے چہرے پر کئی چہرے لیے

ہم بڑے ہی پارسا بن کر جیے

راز الفت کا چھپانے کے لیے

ضبط گریہ بھی کیا لب بھی سیے

جن میں چلتی ہیں ہوائیں تیز تیز

ایسی راہوں میں جلائے ہیں دیے

جو بھی ہیں اس بزم میں مدہوش ہیں

اور یہ مدہوشیاں ہیں بن پیے

آپ نے چھوڑے ہیں جو نقش قدم

وہ ہمارے حق میں ہیں روشن دیے

غم کے طوفانوں کی زد پر بے خطر

پھر جمالیؔ نے جلائے ہیں دیے