تنظیم دہر کی تو سہی خیر و شر کے ساتھ
Iftikhar Ahamad Siddiqiتنظیم دہر کی تو سہی خیر و شر کے ساتھ
لیکن خطا و سہو لگا کر بشر کے ساتھ
فطرت کا یہ مذاق تو دیکھو بشر کے ساتھ
اک حسن معتبر بھی ہے نا معتبر کے ساتھ
خورشید کو چمن میں گوارا نہ ہو سکیں
شبنم کی ضو فشانیاں نور سحر کے ساتھ
ہر صبح کی نمود امانت ہے شام کی
یہ درد ہجر ختم نہ ہوگا سحر کے ساتھ
کچھ راز حسن و عشق بھی دنیا پہ ہو عیاں
آؤ نظر ملاؤ ہماری نظر کے ساتھ
وہ خوش نصیب ہے جسے تو نے عطا کیا
سوز تمام زندگیٔ مختصر کے ساتھ
گہرائیوں سے جس کا تعلق نہ درد سے
ایسی دعا کو ربط نہیں ہے اثر کے ساتھ
تم لاکھ بے نیاز رہو ہم نے پا لیا
وہ ربط خاص جو ہے نظر کو نظر کے ساتھ
یہ بات دوسری ہے کہ منزل نہ پا سکے
چل تو رہے ہیں آج بھی ہم راہبر کے ساتھ
کیوں منفعل ہوں زحمت چارہ گری سے ہم
اب روح کو قرار ہے درد جگر کے ساتھ
میرا وجود وہم تو فرد عمل بھی وہم
میں کب حریم ذات میں تھا خیر و شر کے ساتھ