اول تو جلوہ گاہ میں دل کی بساط کیا
Iftikhar Ahamad Siddiqiاول تو جلوہ گاہ میں دل کی بساط کیا
دل ہے جنوں نواز تو پھر احتیاط کیا
بیمار غم کے سامنے ذکر نشاط کیا
ظلمت سے روشنی کا بھلا ارتباط کیا
بے خوف رخ سفینے کا موڑو بھنور کی سمت
مرنا قبول کر چکے اب احتیاط کیا
دل ہے تو اک خلش بھی طلب کر بنام دل
کرب نشاط مانگ سرور نشاط کیا
میرے حضور یہ بھی نوازش ہے آپ کی
دل جلوہ گاہ ناز ہو دل کی بساط کیا
اپنا چکے ہیں ہم تو مذاق غم فراق
اب احتیاط کیا کریں اب احتیاط کیا
شاید ابھی یہ اہل خرد کو پتہ نہیں